Govt Lic No: 5991
نیت نیت یعنی ارادہ — ہر حاجی یا عمرہ کرنے والے کو اپنے دل میں واضح نیت کرنی چاہیے کہ وہ صرف اللہ کی رضا کے لیے عمرہ یا حج ادا کر رہا ہے۔ یہی نیت روحانی سفر کی پہلی اور سب سے اہم بنیاد ہے۔ احرام احرام ایک خاص حالت ہے جس میں داخل ہو کر حاجی دنیاوی لباس، عادات اور معاملات کو پیچھے چھوڑ کر اللہ کی مکمل فرمانبرداری کا اظہار کرتا ہے۔ یہ حالت میقات کے مقام سے پہلے اختیار کی جاتی ہے، اور اس میں جسمانی اور روحانی طہارت کو اپنایا جاتا ہے۔ تلبیہ تلبیہ ایک خاص ذکر ہے جو حاجی احرام کی حالت میں مسلسل پڑھتے ہیں۔ یہ اس عزم کا اظہار ہے کہ وہ صرف اللہ کے لیے یہ عبادت کر رہے ہیں: لبیک اللھم لبیک، لبیک لا شریک لک لبیک... یہ ذکر حاجی کے دل میں خشوع اور خلوص پیدا کرتا ہے، اور روحانی تیاری میں مدد دیتا ہے۔ طواف جب حاجی مسجد الحرام میں داخل ہوتا ہے تو سب سے پہلے طواف کرتا ہے۔ طواف کا مطلب ہے خانہ کعبہ کے گرد سات چکر لگانا، دائیں طرف سے بائیں (یعنی خلافِ عقرب الساعت)۔ یہ عمل حجرِ اسود سے شروع ہو کر وہیں ختم ہوتا ہے، اور دورانِ طواف دعائیں، اذکار اور اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے۔ سعی سعی کا مطلب ہے صفا اور مروہ کے درمیان سات چکر پیدل چل کر مکمل کرنا۔ یہ حضرت ہاجرہ علیہا السلام کی سنت کی یادگار ہے، جو پانی کی تلاش میں دوڑتی رہیں۔ قرآن میں بھی فرمایا گیا: "إن الصفا والمروة من شعائر الله..." (البقرہ: 158) حلق یا تقصیر عمرہ مکمل کرنے کے بعد مرد حضرات کو اپنے بال مکمل منڈوانے (حلق) یا چھوٹے کروانے (تقصیر) ہوتے ہیں، جبکہ خواتین صرف معمولی مقدار میں بال کاٹتی ہیں۔ یہ عمل روحانی طہارت، عاجزی اور نئے سرے سے بندگی کے آغاز کی علامت ہوتا ہے۔ اعلانِ دستبرداری یہ تمام معلومات مختلف معتبر ذرائع سے ترتیب دی گئی ہیں، اور انہیں کسی شرعی یا سرکاری فتویٰ کا درجہ حاصل نہیں۔ حج و عمرہ کے شرعی مسائل کے لیے کسی مستند عالمِ دین سے رجوع کرنا بہتر ہے۔